
پیمرا نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے متنازع بیانات کا نوٹس لیتے ہوئے ان کی تقاریر اور پریس کانفرنس نشر کرنے پر پابندی لگادی۔پیمرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں واضح کیا ہے کہ سابق وزیراعظم کے بیانات، تقاریر اور پریس کانفرنس ٹی وی پر نشر کرنے پر سیکشن 27 پیمرا آرڈیننس 2002ء کے تحت پابندی عائد کی گئی ہے۔نئے حکم نامے کے مطابق عمران خان کی براہ راست تقاریر و پریس کانفرنس کے ساتھ ساتھ ریکارڈڈ تقاریر، بیانات اور پریس کانفرنسز بھی نشر کرنے پر پابندی ہوگی۔پیمرا نے نوٹیفکیشن کے ساتھ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف کی تقاریر کے متن بھی جاری کئے ہیں، جس میں انہوں نے اداروں، ان کے سربراہ اور اہم عہدوں پر فائز افسران سے متعلق نازیبا زبان استعمال اور متنازع بیانات دیئے ہیں۔پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی نے ٹی وی چینلز کو مراسلہ بھیج دیا، جس میں سابق وزیراعظم کی تقاریر، بیانات اور پریس کانفرنس نشر نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔نوٹیفکیشن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 4 نومبر کی پریس کانفرنس مختلف ٹی وی چینلز پر نشر ہوئی، عمران خان نے بے بنیاد الزامات لگا کر ریاستی اداروں کیخلاف سازشیں کیں، تقاریر کے مندرجات ٹاک شوز اور خبروں میں بغیر کسی ادارتی نگرانی کے نشر کئے گئے، ایسا مواد نشر کرنے سے لوگوں میں نفرت پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔مراسلے میں نیپرا کا مؤقف ہے کہ یہ مواد امن و امان کیلئے نقصاندہ یا امن بحالی میں رکاوٹ ڈالنے کا باعث بن سکتا ہے، امن یا قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنا آرٹیکل 19 کی سنگین خلاف ورزی ہے۔