
دنیا کی پانچ بڑی جوہری طاقتیں براہ راست مسلح تصادم کے دہانے تک پہنچ چکی ہیں جو کہ تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔روس نے دنیا کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی جوہری طاقتوں کے درمیان کسی جوہ تصادم سے گریز کرنا ان کی اولین ترجیح ہے، تاہم انہوں نے مغرب پر الزام عائد کیا کہ مغرب کی جانب سے مستقل جوہری ہتھیاروں کے استعمال پر اکسانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں جو کہ انتہائی خطرناک کھیل ہے۔مغربی ممالک کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے یوکرین پر حملے کے بعد سے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا بیانیہ بنایا جا رہا ہے۔دوسری جانب روس کا کہنا ہے کہ عالمی جوہری طاقتوں کے درمیان کسی بھی قسم کا تصادم روکنے کے لیے پُرعزم ہیں۔روسی وزارت خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ روس جوہری ہتھیاروں کی جنگ سے بچاؤ کیلئے پُرعزم ہے، عالمی جوہری طاقتوں کے درمیان تصادم سے گریز روس کی اولین ترجیح ہے۔روس کا کہنا ہے کہ جوہری جنگ کی روک تھام کے پانچ ملکی مشترکہ بیان پر قائم ہیں، دیگر جوہری طاقتیں بھی کسی بھی تصادم کو روکنے کیلئے مل کر کام کریں۔ رواں برس 3 جنوری کو روس، امریکا، چین، برطانیہ اور فرانس نے مشترکہ بیان میں جوہری جنگ سے گریز کیلئے ذمہ دارانہ عزم کا اظہار کیا تھا