ہَيّا کارڈ رکھنے والوں کے لیے یواے ای کا 27 ڈالرمیں کثیر داخلہ سیاحتی ویزا

Share

عرب امارات نے منگل سے ’ہَيّاکارڈ‘ کے حاملین کو کثیر داخلہ سیاحتی ویزے کے اجرا کے لیے درخواستیں وصول کرنا شروع کردی ہیں۔یہ اجازت نامہ فیفا ورلڈ کپ کے میچ دیکھنے کے لیے شائقین کو 27 ڈالر(100 درہم) میں 90 دنوں میں متعدد بار قطر سے پڑوسی متحدہ عرب امارات میں داخل ہونے کی اجازت دے گا۔ویزا سے مستثناممالک سے تعلق رکھنے والے مسافر موجودہ قواعد وضوابط کے مطابق متحدہ عرب امارات کا سفر کرسکتے ہیں اور وہاں عارضی قیام کرسکتے ہیں۔نوّے دن کے قیام کا عرصہ ویزا کے اجراء کی تاریخ سے شروع ہوگا۔الامارات نیوزایجنسی نے وفاقی اتھارٹی برائے شناخت، شہریت، کسٹمز اور پورٹ سکیورٹی (آئی سی پی) کے حوالے سے بتایا کہ یہ خصوصی اجازت نامہ ’’قطر کے ساتھ مشترکہ تعلقات کے مطابق تعاون کے امکانات کو بڑھانے کے لیے‘‘ ہوگا۔فیفا کی ویب سائٹ پر دستیاب معلومات کے مطابق ‘ہَيّا’ کارڈ قطرمیں داخلے کے اجازت نامے کے طورپردُگنا اہمیت کا حامل ہے۔یہی کارڈ میچ کے ٹکٹ کے ساتھ اسٹیڈیم تک رسائی کی اجازت دیتا ہے۔یہ فیفا ورلڈ کپ کے میچوں میں شرکت کرنے والے ہر شخص کوجاری کیا جارہا ہے اور یہ ایک ضروری ذاتی دستاویز ہے۔اس کے ذریعے ہی قطر میں میٹرو اور بس سمیت نقل وحمل کے سرکاری ذرائع تک مفت رسائی حاصل ہوگی۔ہَيّا‘کارڈ کے حاملین کے لیے کثیر داخلہ سیاحتی ویزاآئی سی پی کی ویب سائٹ کے ذریعے آن لائن دستیاب ہے۔اس ویب سائٹ پر ویزا ’اسمارٹ چینلز‘ سیکشن کے تحت دستیاب ہے،’پبلک سروسز’ میں، اس کے بعد ‘ہَيّا کارڈ ہولڈرز’ کا آپشن ہے۔اس عمل کومکمل کرنے کے لیے رقم کی ادائی اور مسافرکی تفصیل فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔توقع ہے کہ اس اقدام سے قطر میں رہائش کی مانگ کوکم کیا جاسکے گا۔قطر میں رہائشفٹ بال کے سب سے بڑے ٹورنامنٹ کا آغاز 20 نومبر کو دوحہ کے البیت ایرینا میں قطراورایکواڈور کے درمیان میچ سے ہوگا۔قطر بڑی تعداد میں زائرین کا استقبال کرنے کوتیار ہے۔پورے ٹورنا منٹ کے دوران میں روزانہ لاکھوں کی تعداد میں غیرملکی شائقین کی میچ دیکھنے کے لیے آمد ہوگی اور ان کی وجہ سے قطرکے بنیادی ڈھانچے پردباؤ پڑے گا۔فیفا نے گذشتہ ماہ بتایا تھا کہ میچوں کے ساڑھے 24 لاکھ سے زیادہ ٹکٹ فروخت ہوچکے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ قطرکی کل آبادی عارضی طور پر دگنا ہوجائے گی۔اس کی اپنی آبادی قریباً 27 لاکھ نفوس پرمشتمل ہے۔اس ننھی خلیجی ریاست سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ تماشائیوں کی رہائش کے انتظامات کرے گی اور اس مقصد کے لیے ہوٹل کے کمروں کے بندوبست کی غرض سے پڑوسی ممالک سے رجوع کرے گی۔دبئی کے ہوٹل مالکان نے جولائی میں العربیہ کوبتایا تھا کہ وہ بکنگ میں اضافہ دیکھ رہے ہیں، ٹورنامنٹ کے دوران میں بہت سے ہوٹلوں میں کوئی گنجائش نہیں رہے گی اور تمائشیوں سے بھرے ہوں گے۔اطلاعات کے مطابق حکام نے ایران کے ساتھ معاہدے کیے ہیں تاکہ اس ملک کے جزیرے کیش میں واقع ریزارٹس میں کچھ تماشائیوں کی میزبانی کی جاسکے۔شائقین جزیرے پرواقع اپنے ہوٹلوں اور قطر کے اسٹیڈیمز کے درمیان ‘شٹل فلائٹس’ کے ذریعے سفرکرسکیں گے۔منتظمین نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ صحرا میں ’بدوی طرز‘ کے خیمے نصب کریں گے اور وہاں بھی تماشائیوں کورہنے کی پیش کش کریں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Skip to toolbar