
پاک فوج میں اعلیٰ ترین تقرریوں کے معاملے میں کسی جلد بازی میں نہیں اور یہ فیصلہ مناسب وقت پر کیا جائے گا۔اس بات کا. اظہار وزیراعظم نے میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا ہے،
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس بات کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا کہ کون آرمی چیف بنے گا اور کون جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا چیئرمین۔اسی دوران یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ دفاعی حکام نے بھی کوئی سمری ارسال نہیں کی جس میں سینئر ترین عہدوں پر تقرری کیلئے تھری اسٹار جرنیلوں کے نام لکھے ہوںآرمی چیف اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے چیئرمین کے عہدے پر تقرریاں وزیراعظم کا استحقاق ہے۔ عموماً وزیراعظم کو سمری ارسال کرنے کا معاملہ نومبر کے وسط پر شروع ہوتا ہے تاوقتیکہ وزیراعظم خود ہی موزوں نام طلب کرلیں۔تاہم، حکمران نون لیگ اور اس کی اتحادی جماعتوں میں آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے عہدوں تقرری کے حوالے سے غیر رسمی بات چیت ہوئی ہے۔اگرچہ مجاز اتھارٹی وزیراعظم ہیں لیکن وہ ان تقرریوں کے معاملے میں کسی سے بھی مشاورت کر سکتے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں کہا جاتا ہے کہ وزیراعظم کی میاں نواز شریف کے ساتھ مشاورت انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ تقرری کے اعلان سے قبل، توقع ہے کہ وزیراعظم اپنے اتحادی شراکت داروں کو اعتماد میں لیں گے۔نون لیگ کے ذریعے کے مطابق، وزیراعظم اس مرتبہ سینیارٹی پر زور دے سکتے ہیں۔ اگرچہ یہ لازم نہیں لیکن ان تقرریوں کے حوالے سے وزیراعظم غیر رسمی طور پر سبکدوش ہونے والے آرمی چیف سے بھی مشورہ لے سکتے ہیں۔عسکری ذرائع کے مطابق سینئر ترین عہدوں پر تقرری کیلئے سمری ارسال کیے جانے کے وقت پینل میں تمام سینئر ترین افسران کے نام شامل کیے جائیں گے جن میں سے وزیراعظم اپنی پسند سے عہدوں پر تقرری کریں گے۔ عموماً ایک عہدے کیلئے تین افسران کے ناموں پر غور کیا جاتا ہے۔سینیارٹی کے لحاظ سے دیکھیں تو جن 6؍ افسران کے ناموں پر سینئر ترین عہدوں پر تقرری کیلئے غور کیا جا سکتا ہے اُن میں لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر، لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا، لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس، لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود، لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید اور لیفٹیننٹ جنرل محمد عامر شامل ہیں۔