وزیر اعلی بلوچستان سرفراز بگٹی کا سیاسی سفر

Share

پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے میر سرفراز بگٹی بلوچستان کے وزیر اعلیٰ منتخب ہوگئے ہیں۔پسماندہ صوبہ ہونے کے ساتھ ساتھ دہشت گردی سے متاثرہ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے نو منتخب وزیراعلیٰ کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔سرفراز بگٹی 1981 میں قبائلی رہنما میر غلام قادر مسوری بگٹی کے گھر پیدا ہوئے، ان کے والد بدلتی سیاسی فضا کا اندازہ لگانے کی صلاحیت رکھتے تھے، یہی وجہ ہے کہ وہ جنرل ضیا کی مجلس شوریٰ کا حصہ رہنے کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے۔بعدازاں غلام قادر مسوری بگٹی اپنی وفات تک پیپلز پارٹی کے ساتھ ہی رہے برداشت کیا۔ایسا، انہوں نے لارنس کالج مری سے اپنی تعلیم مکمل ہونے کے بعد 2013 میں سیاست کے میدان میں قدم رکھاسال 2013 میں ہونے والے عام انتخابات میں سرفراز بگٹی نے آزاد امیدوار کی حیثیت سے صوبائی اسمبلی کا انتخاب لڑا اور بعد میں پاکستان مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کرلی، کچھ ماہ بعد ہی انہیں صوبے کا وزیر داخلہ بنا دیا گیا۔سرفراز بگٹی نے بطور وزیر داخلہ صوبے میں امن و امان قائم کرنے کی کوششیں کیں اور ان کی زیر قیادت لیویز فورس میں کئی حوالے سے جدت لائی گئی۔ اس دور میں صوبے میں امن و امان قائم کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا، سرفراز بگٹی پر 17 حملے ہوئے اور انہیں اپنے دوستوں اور رشتے داروں کی ہلاکتوں کا صدمہ بھی برداشت کرنا پڑا۔2018 کے عام انتخابات میں سرفراز بگٹی انتخابی کامیابی تو حاصل نہ کرسکے لیکن سینیٹ کی نشست حاصل کرکے پارلیمنٹ کے ایوان بالا میں ایک توانا آواز بنے اور پھر 2021 میں وہ دوسری مرتبہ سینیٹر منتخب ہوئے۔مقتدر حلقے ان کی کامیابیوں پر نظر رکھے ہوئے تھے اور یوں 2023ء میں انہیں نگران وفاقی وزیر داخلہ کے منصب کی پیشکش ہوئی، اس حیثیت میں انہوں نے عالمی سطح پر پاکستان کی مثبت تصویر پیش کرنے کی کوشش کی۔2024 کے انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہونے کے بعد ہی سرفراز بگٹی نے اپنے منصب سے استعفیٰ دے دیا اور آنے والے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر بلوچستان اسمبلی کے رکن کا انتخاب لڑنے کا اعلان کیا اور الیکشن میں کامیابی بھی حاصل کی۔وفاق، سندھ اور پنجاب میں اپنا اثر رکھنے والی پاکستان پیپلز پارٹی کی حمایت کے باوجود سرفراز بگٹی کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ جغرافیائی طور پر ملک کے سب سے بڑے صوبے میں امن لوٹ آئے اور یہاں کے باشندوں میں یہ احساس ختم ہو کہ انہیں نظرانداز کیا جا رہا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Skip to toolbar