
آج پاکستان بھر میں 12 ویں جمہوری انتخابات ہو رہے ہیں، جس میں عوام اپنا اور ملک کا مستقبل چننے کیلئے حق رائے دہی استعمال کریں گے۔صبح آٹھ بجے شروع ہونے والی پولنگ کے زریعے ووٹرز قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے 855 حلقوں میں امیدوار چنیں گے۔ملک بھر میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 12 کروڑ 85 لاکھ 85 ہزار 760 ہے، اور جمہوری عمل کیلئے 90 ہزار 675 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں، جن میں 14 لاکھ 90 ہزار انتخابی عملہ ڈیوٹی دے گا۔الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ پولنگ کے حوالے تمام سامان کی ترسیل مکمل ہوچکی ہے۔پولنگ کا عمل شام 5 بجے تک بنا کسی وقفے کے جاری رہے گا۔تمام حلقوں کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج پولنگ ختم ہونے کے ایک گھنٹے بعد جاری کرنے کی اجازت دی گئی ہے، جو ریٹرننگ افسر کے دفاتر سے جاری ہوں گے۔عام انتخابات کے نتائج کی ترسیل و تدوین کیلئے الیکشن مینجمنٹ سسٹم (ای ایم ایس) استعمال کیا جائے گا۔ملک بھر میں 16 ہزار 766 پولنگ سٹیشن انتہائی حساس ،29 ہزار 985 حساس جبکہ 44 ہزار 26 پولنگ سٹیشنز نارمل قرار دیئے گئے ہیں۔انتہائی حساس قرار دیے پولنگ اسٹیشنز کے باہر فوج تعینات ہوگی۔پنجاب میں 5 ہزار 624 پولنگ اسٹیشن حساس ترین قرار دیے گئے ہیں جن پر فی پولنگ اسٹیشن 5 اہلکار تعینات ہوں گے۔اسی طرح سندھ میں 4 ہزار 430 حساس پولنگ اسٹیشنز پر فی اسٹیشن 8 اہلکار ہوں گے۔خیبرپختونخوا میں 4 ہزار 265 حساس ترین پولنگ اسٹیشنز پر 9 اہلکار فی پولنگ اسٹیشن، جبکہ بلوچستان میں 1047 انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنوں میں ہر پولنگ اسٹیشن پر 9 اہلکار ہوں گے، اسلام آباد سے قومی اسمبلی کی 3 نشستوں پر ووٹ ڈالے جائیں گے جبکہ پنجاب سے قومی اسمبلی کی 141 اور صوبائی کی 297 نشستوں پر ووٹ ڈالے جائیں گے۔سندھ سے قومی اسمبلی کی 61 اور صوبائی کی 130، خیبرپختونخوا سے قومی اسمبلی کی 45 اور صوبائی کی 115 جبکہ بلوچستان سے قومی اسمبلی کی 16 اور صوبائی اسمبلی کی 51 نشستوں پر پولنگ ہو گی۔اسلام آباد سے قومی اسمبلی کی 3 نشستیں ہیں جن پر 10 لاکھ 83 ہزار 29 ووٹرز اپنے نمائندوں کا انتخاب کریں گے۔پنجاب سے قومی اسمبلی کی 141 اور پنجاب اسمبلی کی 297 نشستوں پر اپنے نمائندوں کے انتخاب کیلئے 7 کروڑ 32 لاکھ 7 ہزار 896 ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔سندھ سے قومی اسمبلی کی 61 اور سندھ اسمبلی کی 130 نشستوں پر اپنے نمائندوں کے انتخاب کیلئے 2 کروڑ 69 لاکھ 94 ہزار 769 ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔خیبرپختونخوا سے قومی اسمبلی کی 45 اور خیبرپختونخوا اسمبلی کی 115 نشستوں پر اپنے نمائندوں کے انتخاب کیلئے 2 کروڑ 19 لاکھ 28 ہزار 119 ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔بلوچستان سے قومی اسمبلی کی 16 اور بلوچستان اسمبلی کی 51 نشستوں پر اپنے نمائندوں کے انتخاب کیلئے 53 لاکھ 71 ہزار 947 ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کے لیے 26 کروڑ بیلٹ پیپر چھاپے ہیں اور الیکشن کے دن ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔چار انتخابی حلقوں میں امیدواروں کی اموات کے باعث پولنگ ملتوی کی گئی ہے۔پی کے 91 کوہاٹ 2 میں امیدوار عصمت اللّٰہ خٹک کے انتقال کے باعث پولنگ نہیں ہوگی جبکہ این اے 8 باجوڑ، پی کے 22 باجوڑ 4 میں امیدوار ریحان زیب کی موت پر آج پولنگ نہیں ہو گی، پی پی 266 رحیم یار خان 12 میں امیدوار اسرار حسین کے انتقال پر آج الیکشن نہیں ہوگا۔الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ متعلقہ حلقوں میں الیکشن عام انتخابات کے بعد ہوں گے، الیکشن کے بعد ان حلقوں کے شیڈول کا اعلان ہو گا۔کمیشن کی جانب سے جاری کئے گئے ضابطہ اخلاق کے مطابق پہلے درجے میں سکیورٹی کی ذمہ داری پولیس جبکہ دوسرے درجے میں سول آرمڈ فورسز اور تیسرے درجے میں افواج پاکستان کی ہو گی۔ووٹ اصل قومی شناختی کارڈ پر ہی ڈالا جا سکے گا تاہم زائد المیعاد قومی شناختی کارڈ بھی قابل قبول ہوں گے۔پولنگ اسٹیشن پر امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول کرنے کیلئے پریزائیڈنگ افسران کو مجسٹریٹ درجہ اول کے اختیارات دیے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستان کے معروف سیاست دان بھی آج کے عام انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں جن میں وطن پارٹی کے سربراہ شاہ زین بگٹی این اے 253 اور عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان این اے 25 چارسدہ ٹو سے امیدوار ہیں۔دیگر اہم امیدواروں میں پی ٹی آئی کے گوہر علی خان این اے 10 بونیر، سابق گورنر و وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سردار مہتاب احمد خان این اے 16 ایبٹ آباد، مسلم لیگ (ن) خیبرپختونخوا کے صدر امیر مقام این اے 2 سوات اور این اے 11 شانگلہ، سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان این اے 53 اور این اے 54 راولپنڈی، مسلم لیگ (ق) کے رہنما چوہدری سالک حسین این اے 64 گجرات، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے کنوینئر خالد مقبول صدیقی این اے 248 کراچی سنٹرل، بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے سربراہ اختر جان مینگل قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 256 خضدار، این اے 261 سہراب اور این اے 264 کوئٹہ سے امیدوار ہیں۔پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی این اے 263 کوئٹہ اور این اے 266 چمن سے قسمت آزمائی کر رہے ہیں۔جماعت اسلامی کے مرکزی سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ این اے 128 لاہور، سابق وزیر دفاع خواجہ محمد آصف این اے 71 سیالکوٹ، مسلم لیگ (ن) کی مرکزی رہنما مریم اورنگزیب این اے 119 لاہور، جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن این اے 246 اور این اے 250 کراچی اور تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ سعد رضوی این اے 50 اٹک سے امیدوار ہیں