
سب سے پہلے 1975ء میں شیخ عبداللہ اور اندرا گاندھی کے درمیان ہونے والے معاہدے کے خلاف بطور احتجاج وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی طرف سے کشمیریوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی منانے کا اعلان کیا گیا . یہ پاکستان کی تاریخ کا کشمیر کے لیے سب سے بڑا احتجاج تھا اس دور کی میڈیا رپورٹس بتاتی ہیں کہ یہ احتجاج اس قدر سخت تھا کہ پورا پاکستان بند ہو گیا اور لوگوں نے اپنے مویشیوں کو پانی تک نہیں پلایا۔اس اظہار یکجہتی کو عالمی کوریج ملیلیکن باضابطہ طور پر اس دن کو منانے کا آغاز 5 فروری 1990 کو ہواکہتے ہیں ہم یوم یکجہتی کشمیر کیوں مناتے ہیں؟؟ ہم ظلم کے خلاف ڈٹے، آزادی مانگتے ہوے کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہو کر ان کی آواز کے ساتھ آواز ملا کر دنیا کو بربریت کا وہ چہرہ دکھاتے ہیں جسے چھپانے کے لیے ہر 7 کشمیریوں پر بھارت نے ایک فوجی تعینات کر رکھا ہےہم دنیا کو وہ نقشہ دکھاتے ہیں جہاں 85806 مربع میل پر مشتمل دنیا کی سب سے بڑی جیل میں 9 لاکھ بھارتی فوج تعینات ہےپاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے بھارت RAW پر ایک خطیر رقم اسی وجہ سے خرچ کرتا ہے کیونکہ یہ پاکستان ہی ہے جس نے مسئلہ کشمیر دنیا میں زندہ رکھا ہےپاکستان نے کشمیر کے لیے 4 جنگیں لڑیں (کشمیر کا ایک حصہ بھارت کے قبضے سے چھڑایا جسے آزاد کشمیر کہا جاتا ہے) پاکستان کے ہر وزیر اعظم ہر لیڈر ہر رہنما نے ہر فورم پر مقبوضہ کشمیریوں کی آواز پہنچائی یہ مختلف طریقوں اور مختلف فورمز پر اٹھائی گئ آوازیں ہی ہیں جو مسئلہ کشمیر زندہ رکھے ہوے ہیںہم عقوبت خانوں میں قید کشمیریوں کی آواز ہیںہم دنیا کی سب بڑی جیل میں قید کروڑوں کشمیریوں کی آواز ہیںیہ پاکستان کی مضبوط آواز کا ہی اثر ہے جو ایمنسٹی انٹرنیشنل، لیو ایس ہیومن رائٹس واچ جیسی انسانی حقوق کی تنظیمیں بھارت کی بربریت پر چیخ رہی ہیںکہا جاتا ہے کہ پاکستان آج سنگاپور ہوتا اگر پاکستان مسئلہ کشمیر کے پیچھے نہیں بھاگتااس میں ہمارے لیے تنبیہ ہے کہ اگر پاکستان کشمیر کے لیے لڑنا یا حصول کشمیر کی جدوجہد چھوڑ دیتا تو پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی اندرونی و بیرونی سازشوں کا جال ختم ہو جاتالیکن پاکستان 96,000 سے زیادہ کشمیریوں کا بھارت کے ہاتھوں ماورائے عدالت قتلکیسے بھول جاتاپاکستان 164,078 بےگناہ کشمیریوں کی گرفتاریاں اور تشدد سے معذور کشمیریوں سے کیسے صرف نظر کرتاپاکستان 25,000 سے زیادہ پیلٹ گن سے متاثر ہونے والے اور ، 800 سے زیادہ اندھے ہو جانے والے کشمیریوں سے کیسے نظر چُراتا چنانچہ پاکستان آج تک اقوام متحدہ سمیت ہر عالمی فورمز پر کشمیر کے لیے لڑتا رہا اور کشمیر کی آزادی کے حصول تک لڑتا رہے گا ہمارے ایٹمی قوت بننے کا محرک بھارت ہی تھا اقوام متحدہ کی قراردادوں سے بھاگتا بھارت دنیا کو یہ باور کرانے کے لیے کافی ہے کہ کشمیر کیس بہت مضبوط ہے کشمیر میں بھارتی فوج کو ملی کھلی چھوٹ کے باعث آج بھارتی فوج صرف کشمیریوں کے قتل عام میں ہی نہیں کشمیری نوادرات، اسلحہ اور منشیات کی اسمگلنگ میں بھی ملوث ہےکشمیر میں تعیناتی کے دوران بھارتی آرمی آفیسرز کے اثاثوں میں بیش بہا اضافہ ہوابھارتی فوج کی اسمگلنگ کے دوران پرموشن اور تمغے حاصل کرنے کے لیے کھیل بھی کھیلے جاتے ہیں مجبور اور غریب کشمیریوں کو اسلحہٰ اور منشیات کی چھوٹی کھیپ دیکر کشمیر پولیس سے خفیہ رکھ کر اسمگل کیا جاتا ہے اور آزاد کشمیر سے اسمگلنگ کا ڈرامہ رچایا جاتا ہے جعلی اسمگلرز کو بھارتی فوج کے ہاتھوں مروا دیا جاتا،آپریشن میں ملوث افسران کو انعام کے طور پر ہتھیار اور آوٹ اسٹینڈنگ رپورٹ سے نوازا جاتا ہے جبکہ منشیات اور نوادرات کی بڑی کھیپ کو بحفاظت اسمگل کیا جاتا ہے ان سب ہتھکنڈوں کے باوجود کئ دہائیوں پر محیط بھارتی ظلم و جبر آج تک کشمیریوں کو نہیں جھکا سکا یوم یکجہتی کشمیر پہ اس عہد کا ہر پاکستانی ببانگ دہل اعلان کرتا ہے کہکشمیر پاکستان شہہ رگ ہےاور کوئی ملک اور قوم یہ برداشت نہیں کر سکتی کہ اپنی شہ رگ کو دشمن کی تلوار کے نیچے دے دے ۔ کشمیر پاکستان کا حصہ ہے ،ایک ایسا حصہ جسے پاکستان سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔
تحریر: حجاب رندھاوا