
برطانوی سیکیورٹی امور سے متعلق ادارے جنرل آفس آف کمیونیکیشن (جی سی ایچ کیو) کے سربراہ نے کہا ہے کہ اس بات کے کوئی آثار نہیں ہیں کہ روس یوکرین کی جنگ میں جوہری ہتھیاروں کے استعمال پر غور کر رہا ہے۔
حال ہی میں دیگر امریکی اور مغربی عہدیداروں کی طرح سر جیریمی فلیمنگ نے بھی یہ نہیں بتایا کہ مشتبہ سرگرمی کے کوئی آثار موجود ہیں۔ سر جیریمی نے متنبہ کیا کہ جوہری ہتھیاروں کے بارے میں کوئی بھی بات “بہت خطرناک” ہے۔ اگر روس جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی طرف بڑھے گا تو جی سی ایچ کیو کو امید ہے کہ اسے اشارے مل جائیں گے۔
چین کی بات آتی ہے تو برطانیہ اور اس کے اتحادی ایک فیصلہ کن موڑ پر ہیں۔انٹیلی جنس، سائبر اور سیکیورٹی ایجنسی کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ یوکرین میں جنگ کے نتیجے میں روس کو ہونے والے اخراجات، افرادی قوت اور سازوسامان کے لحاظ سے توقعات سے زیادہ اٹھانے پڑے ہیں ہیں کیونکہ ابتدائی حاصل ہونے والے فوائد اب زائل ہو گئے ہیں۔’کسی بھی قسم کی اندرونی مخالفت کےبغیر، ان کی فیصلہ سازی ناقص ثابت ہوئی ہے۔ یہ ایک بہت بڑا جوا تھا جو اب دفاعی حکمت عملی میں غلطیوں کا باعث بن رہا ہے۔’سر جیریمی کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ روسی عوام اب پوتن کی ‘پسند کی جنگ’ کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل کو سمجھنے لگے ہیں۔ وہ دیکھ رہے ہیں کہ پوتن کے اندازے کس قدر غلط ثابت ہوئے اور انہوں نے صورتحال کو سمجھنے میں بری طرح غلطی کی۔’وہ عام لام بندی سے بھاگ رہے ہیں، وہ یہ محسوس کرتے کہ وہ اب بیرون ملک سفر نہیں کرسکتے ہیں. وہ جانتے ہیں کہ جدید ٹیکنالوجی اور بیرونی اثرات تک ان کی رسائی انتہائی محدود ہو گی ہے۔’مارچ میں ایک تقریر میں سر جیریمی نے کہا تھا کہ انٹیلی جنس نے اطلاعات کے مطابق یوکرین میں کچھ روسی فوجیوں نے احکامات پر عمل کرنے سے انکار کر دیا تھا، اپنے ہی سازوسامان کو سبوتاژ کیا تھا اور حادثاتی طور پر اپنے ہی ایک طیارے کو مار گرایا تھا