حریت پسند کشمیری رہنما الطاف احمد شاہ بھارتی قید میں انتقال کر گئے

Share

مقبوضہ جموں و کشمیر کشمیر سے تعلق رکھنے والے حریت پسند رہنما اور سید علی گیلانی کے داماد الطاف احمد شاہ بھارتی پولیس کی حراست میں چل بسے ہیں۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق 66 سالہ الطاف احمد شاہ کے اہل خانہ نے ان کی وفات کی تصدیق کی۔الطاف احمد شاہ نے متنازع علاقے پر انڈیا کی حکمرانی کو کئی دہائیوں تک چیلنج کیا تھا اور بھارتی حکام نے انہیں 5سال کے لیے جیل بھیج دیا تھا۔

الطاف احمد شاہ کو بھارتی حکام نے 2017 میں ’دہشتگردی کی فنڈنگ کے مقدمے‘ میں گرفتار کیا تھا اور انہیں نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں رکھا گیا تھ، جہاں ستمبر میں ان کے گردے میں سرطان کے مرض کی تشخیص ہوئی۔

انڈین وزیر داخلہ امت شاہ کو لکھے گئے ایک خط سمیت اعلیٰ سرکاری حکام سے خاندان کی بار بار اپیل کے بعد جیل میں بند کشمیری رہنما کو علاج کے لیے نئی دہلی کے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز منتقل کیا گیا جہاں وہ پیر کی رات انتقال کر گئے۔

تہاڑ جیل کے حکام نے ان کی موت پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔الطاف شاہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے چوتھے علیحدگی پسند رہنما ہیں جن کی گذشتہ 3 سالوں میں پولیس حراست میں موت ہوئی ہے۔وہ تحریک حریت کا حصہ تھے۔

گذشتہ سال الطاف احمد شاہ کے سسر اور خطے کے سخت ترین انڈیا مخالف حریت رہنما 91 سالہ سید علی گیلانی تقریباً 10 سال کی نظر بندی کے بعد سری نگر میں اپنی رہائش گاہ پر وفات پا گئے تھے۔اس سے قبل 2021 میں علیحدگی پسند رہنما 78 سالہ محمد اشرف صحرائی جیل میں متعدد بیماریوں میں مبتلا ہو کر انتقال کر گئے تھے۔انڈیا جموں و کشمیر کی آزادی یا پاکستان کے ساتھ الحاق کے لیے مسلح بغاوت شروع ہونے کے بعد ہزاروں کشمیریوں کو سخت قوانین کے تحت گرفتار کر چکا ہے۔ ۔پاکسان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ انہیں الطاف شاہ کی موت پر گہرا دکھ ہوا ہے۔ انہوں نے اپنی ٹویٹ میں کہا: ’مودی سرکار نے انہیں علاج کی سہولت دینے سے انکار کیا حالانکہ اسے معلوم تھا کہ وہ سرطان کے مریض ہیں۔ بھارت میں انڈیا پولیس کی حراست میں کشمیریوں کی ہلاکتیں عام بات ہے۔‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Skip to toolbar