
اسلام آباد میں کسٹم حکام نے کروڑوں روپے مالیت کی نوادرات کی اسمگلنگ ناکام بنادی۔ محکمہ آرکیالوجی کے مطابق نوادرات 2600 سے 3500 قبل مسیح کے ہیں۔ دوسری طرف ایف سی بلوچستان نے کسٹمز و دیگر اداروں کے ہمراہ مختلف علاقوں میں کارروائیوں میں گیارہ ہزار ایک سو کلو چینی ، تیس ہزار کلو یوریا کھاد و ممنوعہ اشیاء کی اسمگلنگ کو ناکام بنادیا۔حکام کے مطابق نوادرات بلوچستان سے افغانستان منتقل کیے جارہے تھے لیکن منزل پر پہنچنے سے قبل اسلام آباد کسٹم نے نوادرات پکڑ لئے۔حکام کے مطابق یہ نوادرات ایرانی املی جوتوں اور ویلوٹ کے کپٹروں کے ساتھ اسمگل کئے جا رہے تھے، سامان بسوں کے ذریعے موٹروے ایم 14 سے راولپنڈی لایا جا رہا تھا۔نواردات کی قیمت کا اندازہ لگانا نا ممکن ہے تاہم ایک اندازے کے مطابق نوادرات کی قیمت کروڑوں روپے ہے۔نوادرات میں مٹی کے برتن اورتانبےسے بنےکھدائی کے اوزار شامل ہیں۔ کسٹم حکام نے نوادرات کو کسٹم ہاؤس میں محفوظ کر لیا ہے۔محکمہ آرکیالوجی نے نوادرات کا جائزہ لینے کے بعد نوادرات کو انتہائی قیمتی قرار دے دیا۔محکمہ آرکیالوجی نے نوادرات کے حصول کے لئے کسٹم حکام کو خط لکھ دیا ہے۔کلکٹرکسٹم اسلام آباد آصف ہرگن نے کہا ہے کہ نوادرات کی اسمگلنگ کے بارے میں چند روز قبل اطلاع موصول ہوئی تھی، نوادرات کی اسمگلنگ کرنے والے ملزم کو بھی گرفتارکرلیا گیا ہے۔ایف سی بلوچستان نے کسٹمز و دیگراداروں کے ہمراہ مختلف علاقوں میں انسداد اسمگلنگ کی متعدد کارروائیوں میں گیارہ ہزار ایک سو کلو چینی ، تیس ہزار کلو یوریا کھاد و ممنوعہ اشیاء کی اسمگلنگ کو ناکام بنادیا۔تفصیلات کے مطابق کارروائیاں مستونگ، نوشکی، ڈی ایم جمالی کےمختلف علاقوں میں کی گئیں۔ ضبط اشیاء میں سگریٹس، گٹکا،کپڑا، ٹائرز، آئل و دیگر اشیاء شامل ہیں، جنکی مالیت کروڑوں میں لگائی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق ایف سی بلوچستان نے کارروائی کرتے ہوئے مسافر بسوں کو چیک کیا تھا تو یہ اشیا برآمد ہوئیں۔اسمگلرز اشیاء ٹرکوں اور مسافر بسوں میں چھپا کر اسمگل کر رہے تھے، اشیاء ضبط کرکے کسٹمز حکام کے حوالے کر دی گئیں۔ذرائع کے مطابق دوسری طرف لکپاس پر انہی اسمگلرز کی جانب سے اب روڈ بلاک کردیا گیا ہے۔ اسمگلرز اور انکے ہمدرد اب روڈ بلاک کرکے اس اسمگلنگ کو بچانا چاہتے ہیں۔
awareinternational A Credible Source Of News
Aware International © Copyright 2026, All Rights Reserved