اسرائیل کا غزہ میں الفخورہ اسکول پر حملہ

Share

اسرائیل کا غزہ میں الفخورہ اسکول پر جبالیہ کیمپ پر تیسرا بڑا حملہ ہے۔مقامی میڈیا کے مطابق، یہ غزہ شہر کے شمال میں الصفاوی کے علاقے میں بے گھر خاندانوں کو پناہ دینے والے اسامہ بن زید اسکول پر مہلک حملے کے چند گھنٹے بعد یہ حملہ ہوا، جس میں کم از کم 20 افراد شہید ہوئے۔ہفتہ کی صبح مغربی غزہ شہر میں الناصر چلڈرن اسپتال کے داخلی دروازے پر بھی حملہ کیا گیا اور متعدد مقامی میڈیا اداروں نے شہریوں کی ہلاکتوں کی اطلاع دی۔فلسطینی وزارت صحت کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق 1250 بچوں سمیت 2,200 افراد اس وقت غزہ میں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔قرموت نے مزید کہا کہ’“لہذا وہ (اسرائیل کی فوج) جو کچھ کر رہے ہیں وہ شمالی غزہ میں پھنسے شہریوں کو زندگی کے کسی بھی ذریعہ سے محروم کر رہا ہے۔ انہوں نے پانی کے ٹینکوں کو نشانہ بنایا، سول سہولیات، اسپتالوں اور یہاں تک کہ UNRWA اسکولوں کو بھی نشانہ بنایا جہاں لوگ پناہ لے رہے ہیں۔ جلد ہی، لوگوں کے پاس جنوب جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچے گا’۔اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ شمالی غزہ کی پٹی کے رہائشیوں کو ہفتہ کی صبح 11:00 بجے سے 2 بجےکے درمیان جنوب کی طرف نکلنے کے لیے غزہ کی مرکزی سڑک صلاح الدین اسٹریٹ استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔لیکن قرموت کے مطابق اسرائیل کی جنگ میں وعدے توڑنے کی تاریخ ہے۔انہوں نے کہا کہ ’اس بات کی کیا ضمانتیں ہیں کہ اسرائیل اب بھی جنوب کی طرف بھاگتے ہوئے لوگوں پر بمباری نہیں کرے گا؟ اقوام متحدہ جیسا کوئی بین الاقوامی ضامن نہیں ہے کہ وہ نگرانی کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ لوگوں پر حملہ نہیں کیا جائے گا‘۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Skip to toolbar