
سینئر اداکار راشد محمود کا کہنا ہے کہ وہ چوتھی بار فالج کا شکار ہوئے ہیں، پنجاب حکومت کی جانب سے 2 لاکھ کا چیک ملنے پر انہوں نے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ ’کیا ایک فنکار کی صرف اتنی قیمت ہے؟‘راشد محمود کا شمار پاکستان کی فلم اور ٹی وی انڈسٹری کے سینئر اداکاروں میں ہوتا ہے، اداکار نے پی ٹی وی کے ساتھ ایک طویل عرصے تک وابستہ رہے، ان کے مقبول ڈرامے شاہین، کاجل گھر، مرزا غالب، ریاست، محبت روٹھ جائے تو، ضرار اور دیگر شامل ہیں۔
راشد محمود نے میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے اپنے گھر کی مالی حالات کے حوالے سے آگاہ کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ رواں سال وہ چوتھی بار جزوی طور پر فالج کا شکار ہوئے ہیں جس کی وجہ سے ان کے ہاتھ، پاؤں اور چہرہ متاثر ہوا۔انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے 2 لاکھ کا چیک بھجوایا تھا جس کا مجھے بہت دکھ ہے، مجھے عزت اور وقار چاہیے بھیگ نہیں چاہیےراشد محمود نے کہا کہ ساری زندگی شوبز انڈسٹری میں کام کرنے کے بعد میری قدر صرف 2 لاکھ روپے ہے، میں نے کبھی بھی حکومت سے مطالبہ کیا نہ چندہ مانگا ہے، انہوں نے کہا کہ گزشتہ 4 سے 5 سال کے دوران اور عالمی وبا کووڈ-19 کے بعد سے شوبز انڈسٹری بہت زیادہ متاثر ہوئی ہے، بالخصوص پی ٹی وی کے ڈرامے بند کرکے ترکش ڈرامے دکھائے جانے لگے۔انہوں کہا کہ ’میں شکوہ شکایت کرنے والا انسان نہیں ہوں، 2015 میں مجھے پہلا فالج کا حملہ ہوا تھا جس کے بعد دوسری بار 2018 ہوا تو دل کی بیماری میں مبتلا ہوگیا اور پھر تیسری بار 2021 میں اس بیماری کا شکار ہوا، اس دوران میں نے اپنی جمع پونجی کے ذریعے علاج کروایاسینئر اداکار نے انکشاف کیا کہ ’ میں رواں سال چوتھی بار فالج کا شکار ہوا ہوں، میرے پاس علاج کے پیسے نہیں تھے تو میری بیٹی اور اہل خانہ نے مدد کی، تاہم جب نگران وزیر اطلاعات پنجاب عامر میر کو میری صحت کا علم ہوا تو انہوں نے فون کرکے میرے علاج کے اخراجات کی ذمہ داری اٹھانے کی یقین دہانی کروائی اور 2 لاکھ روپے کا چیک بھجوا دیا’۔اداکار نے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ ’2 لاکھ کا چیک دیکھ کر مجھے بہت زیادہ تکلیف ہوئی، اس ملک میں 2 لاکھ کی کیا قیمت ہے؟اداکار راشد محمود نے کہا تھا کہ پاکستان کے جس گھر میں بھی ٹیلی وژن موجود ہے میں گزشتہ 4 دہائیوں سے اس گھر کا مکین ہوں وہ کہتے ہیں کہ ’پی ٹی وی میں نشر ہونے والے میرے ڈراموں کو کروڑوں لوگ دیکھتے تھے جس کے ذریعے آمدنی ہوئی، میں نے 2 لاکھ کا چیک سنبھال کر رکھا ہوا ہے جو میں انہیں واپس کردوں گا۔‘راشد محمود نے کہا کہ میں عامر منیر کا مشکور ہوں جنہوں نے اپنے اختیار میں ہوتے ہوئے یہ رقم بھیجی، لیکن میں یہ رقم خرچ نہیں کروں گا، وہ جس وقت کہیں گے میں واپس کردوں گا۔انہوں نے اپنی صحت کے حوالے سے بتایا کہ پہلے کے مقابلے اب ان کی صحت بہتر ہے، ’اب میرے ہاتھ حرکت کرنے لگے ہیں، میری آواز معمول پر آ رہی ہے، میں اپنی آواز کے ذریعے ہی کما سکتا ہوں، انشاء اللہ میں معمول کی زندگی میں واپس آکر عملی کام شروع کروں گا۔‘اداکار نے ایک بار پھر شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کٹھن حالات کے باوجود مجھ سے کسی نے رابطہ نہیں کیا، زندگی ہے تو کام کرنا پڑے گا۔انہوں نے انتہائی دُکھ بھرے انداز میں کہا کہ جو لوگ اپنے لیجنڈز کو یاد نہیں رکھتے، ان قوموں کو بھی یاد نہیں رکھا جاتا