
پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے عام انتخابات کے کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت کل صبح ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کردی گئی۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اپنے اختلافی نوٹ پر قائم ہوں، انتخابات سے متعلق ازخود نوٹس مسترد کردیا گیا تھا۔ الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ ایجنسیوں نے دہشت گردی کے خدشات سے متعلق رپورٹس دی ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ دہشت گردی کا مسئلہ 20 سال سے ہے، اس کے باوجود انتخابات ہوتے رہے ہیں، جس ضلع میں زیادہ مسئلہ ہے وہاں الیکشن مؤخر ہوسکتے ہیں، 8 اکتوبر کوئی جادوئی تاریخ ہے جو اس دن سب ٹھیک ہوجائے گا، 8 اکتوبر کی جگہ 8 ستمبر یا 8 اگست کیوں نہیں ہوسکتی؟۔چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ میں پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے عام انتخابات کے التواء سے متعلق کیس کی سماعت کا آغاز ہوگیا۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ میڈیا میں جو کچھ نشر ہوا اس کی وضاحت کرنا چاہتا ہوں، اپنے اختلافی نوٹ پر قائم ہوں، ازخود نوٹس کیس کا فیصلہ 3-4 سے ہے، انتخابات سے متعلق ازخود نوٹس مسترد کردیا گیا تھا۔ان کا کہنا ہے کہ اکثریتی ججز کے فیصلے کے مطابق انتخابات کا حکم نہیں دیا گیا، اندرونی معاملہ صرف انتظامی امور کو قرار دیا تھا۔جسٹس جمال نے کہا کہ چار ججز نے پی ٹی آٸی کی درخواستیں خارج کیں، ہمارے حساب سے فیصلہ چار ججز کا ہے، چیف جسٹس نے آج تک آرڈر آف دا کورٹ جاری نہیں کیا، جب آرڈر آف کورٹ نہیں تھا تو صدر نے تاریخ کیسے دی؟، جب آرڈر آف کورٹ نہیں تو الیکشن کمیشن نے شیڈول کیسے دیا؟۔پیپلزپارٹی کے وکیل فاررق ایچ نائیک نے عدالت کو بتایا کہ کیس میں پارٹی بننے کی درخواست دائر کردی ہے۔مزید جانیے: ایمرجنسی لگا کر ہی الیکشن ملتوی کئے جا سکتے ہیں، چیف جسٹسچیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ آپ اپنا مؤقف پیش کرنا چاہتے ہیں، آپ کی درخواست پی ڈی ایم کی طرف سے ہے۔ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ پی پی پی تو پی ڈی ایم کا حصہ نہیں ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ پہلے الیکشن کمیشن کے وکیل کو سنیں گے، الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے۔الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے عرفان قادر ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوگئے۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ آپ کی دستاویز کب آئی؟ آپ ایک وکیل کی جگہ پر آرہے ہیں۔عرفان قادر نے کہا کہ اگر آپ نے شرجیل سواتی کو سننا ہے تو سن لیں، آپ اپنی مرضی کے وکیل کو سن لیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہم اس کیس کو آگے لے جانا چاہتے ہیں۔ عرفان قادر نے کہا کہ صرف یہ جاننا چاہتا ہوں کہ عدالت مجھے سننا چاہتی ہے یا نہیں؟، بینچ کہہ دے کہ الیکشن کمیشن کی نمائندگی نہ کروں تو چلا جاؤں گا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے گزشتہ روز حامد علی شاہ اور سجیل سواتی آئے تھے۔ جس پر عرفان قادر نے کہا کہ ٹھیک ہے پھر میں چلا جاتا ہوں، یہ کہتے ہوئے عرفان قادر کمرہ عدالت سے چلے گئے۔جسٹس جمال مندوخیل نے سوال اٹھایا کہ الیکشن کمیشن نے کس حکم کے تحت فیصلے پر عملدرآمد کیا؟۔ سجیل سواتی نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے یکم مارچ کے فیصلے پر عملدرآمد کیا، عدالتی حکم کے بعد الیکشن کمیشن نے صدر سے رجوع کیا، صدر مملکت نے 30 اپریل کی تاریخ دی، تاریخ مقرر کرنے کے بعد شیڈول جاری اور تیاریاں شروع کیں۔وکیل الیکشن کمیشن نے مزید کہا کہ آرٹیکل 218 کی ذمہ داری کسی بھی قانون سے بڑھ کر ہے، انتخابات کیلئے سازگار ماحول کا بھی آئین میں ذکر ہے، آرٹیکل 224 کے تحت الیکشن 90 روز میں ہونا ہیں۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے وکیل نے اچھی تیاری کی ہے۔سجیل سوات کا مزید کہنا تھا کہ عدالتی آرڈر میں لکھا ہے کہ فیصلہ تین دو سے ہے، 2-3 والے فیصلے پر پانچ ججز کے دستخط ہیں، فیصلے کا پیراگراف 14 اور ابتدائی سطریں پڑھ کرعمل کیا۔جسٹس جمال مندوخیل نے پوچھا کہ کیا آپ نے مختصر حکم نامہ دیکھا تھا، کیا مختصر حکم نامے میں لکھا ہے کہ فیصلہ چار تین کا ہے؟۔ جس پر الیکشن کمیشن کے وکیل نے جواب دیا کہ ممکن ہے کہ ہمارے سمجھنے میں غلطی ہوئی ہو۔جسٹس منیب نے ریمارکس دیئے کہ یکم مارچ کے اختلافی نوٹ میں کہیں نہیں لکھا کہ فیصلہ چار تین کا ہے، اختلاف رائے جج کا حق ہے، اقلیت کسی قانون کے تحت خود کو اکثریت ہونے کا دعویٰ نہیں کرسکتی۔جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کھلی عدالت میں 5 ججز نے مقدمہ سنا اور فیصلے پر دستخط کئے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ نے میرے سوال کا جواب نہیں دیا، مختصر حکم نامے میں لکھا ہے کہ اختلافی نوٹ لکھے گئے، واضح لکھا کہ جسٹس یحییٰ اور جسٹس اطہر کے فیصلے سے متفق ہیں، کیا جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس اطہر من اللہ کے فیصلے ہوا میں تحلیل ہوگئے۔چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس مین کہا کہ جو معاملہ ہمارے چیمبر کا ہے اسے وہاں ہی رہنے دیں، اٹارنی جنرل اس نکتے پر اپنے دلائل دیں گے۔جسٹس جمال مندوخیل نے پوچھا کہ تفصیلی فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن کا کیا مؤقف ہے؟۔ سجیل سواتی نے بتایا کہ 3-4 کے فیصلے پر الیکشن کمیشن سے ہدایات نہیں لیں۔ چیف جسٹس نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو دلائل جاری رکھنے کی ہدایت کردی۔سجیل سواتی نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے صاف شفاف انتخابات کیلئے کوششیں کیں، ای سی پی نے سیکشن 57 کے تحت الیکشن کی تاریخیں تجویز کیں، 3 مارچ کو عدالتی فیصلہ موصول ہوا، الیکشن کمیشن نے اپنی سمجھ سے فیصلے پر عملدرآمد شروع کیا۔ان کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے ووٹ کے حق اور شہریوں کی سیکیورٹی بھی دیکھنا ہے، صدر کی طرف سے تاریخ ملنے پر شیڈول جاری کیا۔جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ آپ کے 22 مارچ کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے، آپ نے 22 مارچ کا آرڈر کب جاری کیا؟۔ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ آرڈر 22 مارچ کی شام کو جاری کیا تھا، جب آرڈر جاری کیا تو کاغذات نامزدگیاں موصول ہو چکے تھے، آرڈر جاری ہونے تک شیڈول کے چند مراحل مکمل ہوچکے تھے۔انہوں نے بتایا کہ فوج نے الیکشن کمیشن کو جوان دینے سے انکار کیا، آئین کا آرٹیکل 17 پُر امن انتخابات کی بات کرتا ہے، آئین کے مطابق انتخابات صاف شفاف پُرامن سازگار ماحول میں ہونے چاہئیں، الیکشن کمیشن نے فوج، رینجرز اور ایف سی کو انتخابی سیکیورٹی کیلئے خط لکھے۔سجیل سوات نے اپنے دلائل میں کہا کہ ایجنسیوں نے الیکشن کمیشن کو خفیہ رپورٹس دیں، عدالت کہے گی تو خفیہ رپورٹس بھی دکھا دیں گے، بھکر اور میانوالی میں ٹی ٹی پی، سندھو دیش، کالعدم تنظیموں کی موجودگی ظاہر کی گئی۔وکیل الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ الیکشن کیلئے 4 لاکھ 12 ہزار کی نفری مانگی گئی، 2 لاکھ 97 ہزار سیکیورٹی اہلکاروں کی کمی کا سامنا ہے۔جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپ 8 فروری کے لیٹرز پر انحصار کر رہے ہیں، عدالت نے یکم مارچ کو اپنا فیصلہ دیا تھا، کیا آپ کو فروری میں خیال تھا کہ اکتوبر میں الیکشن کروانا ہیں؟ دوسری طرف کہتے ہیں عدالتی فیصلے سے انحراف کا سوچ نہیں سکتے۔ان کا مزید کہنا ہے کہ اکتوبر میں الیکشن کرانا تھا تو صدر کو 30 اپریل کی تاریخ کیوں دی؟۔ چیف جسٹس نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے کہا کہ جسٹس منیب اختر کے سوالات نوٹ کر لیں اور بھی بہت سے سوالات ہیں، آپ دلائل دیں پھر ان سوالوں کے جواب دیجئے گا۔الیکشن کمیشن کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ وزارت داخلہ نے بھی 8 فروری کے خط میں خراب امن و امان کا ذکر کیا، وزارت خزانہ نے بتایا کہ موجودہ مالی سال میں الیکشن کیلئے فنڈز نہیں دے سکتے، سیکریٹری خزانہ نے بتایا 20 ارب روپے جاری کرنا ناممکن ہوگا۔جسٹس جمال نے پوچھا کہ کیا الیکشن کیلئے قومی اسمبلی نے فنڈز کی منظور دی ہوئی ہے؟، جس پر سجیل سواتی نے کہا کہ اس بات کا تفصیل سے جواب وزارت خزانہ ہی دے سکتی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن تو ہر صورت 2023ء میں ہونا تھے، کیا بجٹ میں 2023ء الیکشن کیلئے بجٹ نہیں رکھا گیا تھا؟۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ انتخابات کیلئے بجٹ آئندہ مالی سال میں رکھنا ہے، قبل از وقت اسمبلی تحلیل ہوئی اس کا علم نہیں تھا۔جسٹس عمر عطاء بندیال نے پوچھا کہ اگر انتخابات پورے ملک میں ایک ساتھ ہوں تو کتنا خرچ ہوگا؟۔ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ملک بھر میں ایک ہی دفعہ انتخابات پر 47 ارب روپے خرچ ہوں گے، انتخابات الگ الگ ہوں تو 20 ارب روپے اضافی خرچ ہوں گے۔الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ اسپیشل سیکریٹری داخلہ نے بتایا کہ سیاسی شخصیات کو سیکیورٹی خطرات ہیں، وزارت داخلہ کے مطابق سیکیورٹی خطرات الیکشن مہم کے دوران بھی ہوں گے، وزارت داخلہ نے عمران خان پر حملے کا بھی حوالہ دیا۔سجیل سواتی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو بتایا گیا کہ فوج کے بغیر انتخابات کی سیکیورٹی ناممکن ہوگی، اسپیشل سیکریٹری داخلہ نے کہا کہ ان حالات میں پُرامن انتخابات نہیں ہوسکتے، سیکٹر کمانڈر نے بتایا کے پی میں کالعدم تنظیموں نے متوازی حکومتیں بنا رکھی ہیں، خفیہ رپورٹس میں بتایا گیا کہ مختلف دہشتگرد تنظیمیں متحرک ہیں، کے پی میں 2023ء میں سیکیورٹی کے 443 تھریٹس موصول ہوئے، کے پی میں رواں سال دہشت گردی کے 80 واقعات اور 170 شہادتیں ہوئیں، رپورٹس کے مطابق ان خطرات سے نکلنے میں 6 سے 7 ماہ لگیں گے، رپورٹس کے مطابق عوام میں عدم تحفظ کا تاثر بھی زیادہ ہے، خیبرپختونخوا کے 80 فیصد علاقوں میں سیکیورٹی خطرات ہیں۔جسٹس جمال نے پوچھا کہ کیا کوئی طریقہ ہے الیکشن کمیشن ان رپورٹس کی تصدیق کرا سکے؟۔ سجیل سواتی نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات میڈیا پر رپورٹ ہو رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ دہشت گردی کا ایشو تو ہے۔جسٹس عمر عطاء بندیال کا کہنا ہے کہ ملک میں 20 سال سے دہشت گردی کا مسئلہ ہے، اس کے باوجود ملک میں انتخابات ہوتے رہے ہیں، 90ء کی دہائی میں 3 دفعہ الیکشن ہوئے، 90ء کی دہائی میں فرقہ واریت اور دہشت گردی عروج پر تھی، 58 ٹو بی کے ذریعے ہر 3 سال بعد اسمبلی توڑ دی جاتی تھی۔چیف جسٹس نے کہا کہ صدر مملکت کو یہ حقاٸق بتائے بغیر آپ نے تاریخیں تجویز کردی؟۔ الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ صدر مملکت نے تاریخ کی تبدیلی پر الیکشن کمیشن کو خط نہیں لکھا، صدر مملکت نے تاریخ کی تبدیلی پر وزیراعظم کو خط لکھ دیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ پنجاب میں دہشت گردی کے 5 واقعات ہوئے، آخری واقعہ سابق وزیراعظم عمران خان پر قاتلانہ حملہ تھا۔ جسٹس منیب اختر نے پوچھا کہ اگر ادارے معاونت فراہم کریں تو کیا آپ الیکشن کروائیں گے؟، بظاہر الیکشن کمیشن کا سارا مقدمہ خطوط پر ہے، الیکشن کمیشن کا مسٸلہ فنڈز کی دستیابی کا ہے۔الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ فنڈز اور اداروں سے معاونت مل جائے تو پنجاب میں الیکشن کروانے کو تیار ہیں۔ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ الیکشن کمیشن خود کو آئینی ادارہ کہتا ہے، 2 اسمبلیاں تحلیل ہیں، الیکشن کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، الیکشن کمیشن شیڈول جاری کرتا ہے پھر اچانک فیصلہ بدل دیتا ہے، الیکشن کمیشن کا مقدمہ آرٹیکل 218 کا ہے۔ وکیل نے کہا کہ ہم اپنی آئینی ذمہ داریوں سے انحراف نہیں کررہے۔جسٹس منیب نے کہا کہ الیکشن کمیشن اپنی ذمہ داریوں کیلئے تیار ہے، معاونت چاہئے، ہر انسانی جان قیمتی ہے، دہشت گردی کے واقعات سنگین ہیں، عدالت نے ان حالات کے ساتھ آئین کو بھی دیکھنا ہے۔سجیل سواتی نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے الیکشن کیلئے فوج تعیناتی کی منظوری اور فنڈز دینے سے معذرت کرلی۔جسٹس منیب نے پوچھا کہ الیکشن کمیشن نے فیصلہ کرنے سے پہلے عدالت سے رجوع کیوں نہیں کیا؟، الیکشن کمیشن شیڈول منسوخ کرنے سے پہلے عدالت سے رجوع کر سکتا تھا۔ وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے عدالتی حکم پر عمل کیا۔ جسٹس جمال نے کہا کہ جس عدالتی حکم پر تمام ججز کے دستخط ہیں وہ کہاں ہے؟، صبح سے پوچھ رہا ہوں کوئی بھی عدالتی حکم سامنے نہیں لارہا، سجیل سواتی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی سمجھ کے مطابق فیصلہ تین دو کا تھا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جہاں مسئلہ زیادہ ہے اس ضلع میں انتحابات مؤخر بھی ہوسکتے ہیں، الیکشن کمیشن نے کچے میں آپریشن کے باعث پورے پنجاب میں الیکشن ملتوی کردیا، کے پی میں الیکشن کی تاریخ دیکر واپس لی گئی، 8 اکتوبر کی تاریخ پہلے سے مقرر کی گئی، 8 اکتوبر کو کون سا جادو ہو جائے گا کہ سب ٹھیک ہو جائے گا، 8 اکتوبر کی تاریخ عبوری جائزے کے بعد دی گئی، عبوری جائزے کا مطلب ہے کہ انتحابات مزید تاخیر کا شکار ہوسکتے ہیں، عدالت کو پکی بات چاہئے۔الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ 8 اکتوبر کی تاریخ عارضی نہیں، ایجنسیوں کے مطابق جن علاقوں میں بھی الیکشن ہو دہشت گردی پر فوکس ہوگا، الیکشن کمیشن کے انتخابات کرانے کی ذمہ داری سے بنیادی حقوق متاثر نہیں ہوتے، صاف شفاف انتخابات کیلئے الیکشن کمیشن کوئی بھی حکم دے سکتا ہے، ورکرز پارٹی فیصلہ کے مطابق صاف شفاف انتخابات کیلئے وسیع اختیارات ہیں۔جسٹس منیب اختر نے پوچھا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ اداروں سے معاونت نہیں مل رہی، الیکشن کمیشن اپنی ذمہ داری سے کیسے بھاگ سکتا ہے؟، صاف شفاف انتخابات الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، انتخابی شیڈول پر عمل شروع ہوگیا تھا، مشکل تھی تو عدالت آجاتے، الیکشن کمیشن وضاحت کرے کہ الیکشنز 6 ماہ آگے کیوں کردیئے؟، کیا الیکشن کمیشن اس طرح اپنی ذمہ داری پورے کرے گا، کیا انتخابات میں 6 ماہ کی تاخیر آئینی مدت کی خلاف ورزی نہیں۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ انتخابات کرانے کا اختیار کس دن سے شروع ہوتا ہے؟ انتخابی تاریخ مقرر ہونے سے اختیار شروع ہوتا ہے۔ الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ تاریخ مقرر ہوجائے تو بڑھانے کا اختیار الیکشن کمیشن کا ہے، صرف پولنگ کا دن نہیں پورا الیکشن پروگرام مؤخر کیا گیا ہے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ الیکشن کمیشن پروگرام تبدیل کرسکتا ہے تاریخ نہیں۔ وکیل نے دلائل دیئے کہ الیکشن کمیشن ٹھوس وجوہات پر الیکشن پروگرام واپس لے سکتا ہے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال کیا کہ گورنر اور صدر کی دی گئی تاریخ الیکشن کمیشن کیسے تبدیل کرسکتا ہے، آئین میں واضح ہے کہ پولنگ کی تاریخ کون دے گا، کیا الیکشن ایکٹ کا سیکشن 58 آئین سے بالا تر ہے؟۔چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو سپریم کورٹ سے رجوع کرکے قائل کرنا چاہئے تھا، آپ آج ہی عدالت کو قائل کرلیں، 8 اکتوبر کوئی جادوئی تاریخ ہے جو اس دن سب ٹھیک ہوجائے گا، 8 اکتوبر کی جگہ 8 ستمبر یا 8 اگست کیوں نہیں ہوسکتی؟۔الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ 6 ماہ کا وقت مکمل ہونے کے بعد 8 اکتوبر کو پہلا اتوار بنتا ہے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے پوچھا کہ کیا پولنگ کی تاریخ الیکشن پروگرام کا حصہ ہوتی ہے۔ جس پر وکیل نے کہا کہ پولنگ کی تاریخ الیکشن شیڈول کا حصہ ہوتی ہے۔جسٹس امین الدین نے کہا کہ صدر کو تجویز کردہ تاریخ کمیشن کی تاریخ سے مطابقت نہیں رکھتی، صدر کو فروری میں ہونیوالے اجلاسوں سے کیوں آگاہ نہیں کیا گیا، جب معلوم تھا کہ 30 اپریل کو الیکشن نہیں ہوسکتے تو تاریخ تجویز ہی کیوں کی گئی۔ وکیل نے کہا کہ معاملے کی حساسیت کا اندازہ مارچ میں ہوا۔ جسٹس امین نے کہا کہ عدالت نے صدر کو آگاہ کرنے سے نہیں روکا۔ سجیل سواتی نے کہا کہ حالات کا جائزہ لینا الیکشن کمیشن کا کام ہے، صدر کا نہیں۔ جسٹس امین نے کہا کہ الیکشن شیڈول پر عمل کرنے کا کیا فائدہ ہوا جب آج پھر عدالت میں کھڑے ہیں۔جسٹس منیب اختر نے کہا کہ اگر صدر تاریخ کا اعلان کردیں تو کیا الیکشن کمیشن انکار کرسکتا ہے؟۔ چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے پرانا شیڈول ختم کرکے نیا شیڈول جاری نہیں کیا، الیکشن شیڈول کی بجائے الیکشن کمیشن نے 8 اکتوبر کو جھنڈا لگا دیا۔جسٹس منیب نے ریمارکس دیئے کہ سیکشن 58 الیکشن کمیشن کو تاریخ بڑھانے کی اجازت نہیں دیتا۔ جسسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں عدالت 8 اکتوبر کی تاریخ پر مہر لگائے۔ جسٹس جمال مندوخیل کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے صرف اپنے حکم کا دفاع کرنا ہے، عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہوئی یا نہیں یہ درخواست گزار نے ثابت کرنا ہے۔الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ انتخابات کی طرح زندگی کا تحفظ بھی عوام کا بنیادی حق ہے، الیکشن کمیشن کا حکم صرف غیرآئینی اور بدنیتی ہونے پر ہی کالعدم ہوسکتا ہے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ کیا بدنیتی کا نکتہ درخواست گزار نے اٹھایا ہے؟۔ سجیل سواتی نے کہا کہ درخواست میں بدنیتی کا نکتہ نہیں اٹھایا گیا۔ جسٹس منیب نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا حکم نامہ بنیادی طور پر مدد کی پکار ہے، تمام اسمبلیاں تحلیل ہو جائیں تب کیا الیکشن کمیشن انتخابات سے معذوری کرسکتا ہے۔جسٹس جمال مندوخیل کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن حکومت پر انحصار کرتا ہے، حکومت نے بتانا ہے کہ وہ مدد کرنے کی پوزیشن میں ہے یا نہیں، کیا الیکشن کمیشن حکومت کی بریفنگ پر مطمئن ہے؟۔جسٹس اعجاز الاحسن نے پوچھا کہ اگر پیسے اور سیکیورٹی مل جائے تو 30 اپریل کو انتخابات ہوسکتے ہیں؟۔ سجیل سواتی نے کہا کہ جی حکومتی معاونت مل جائے تو 30 اپریل کو انتخابات کرا سکتے ہیں۔ جسٹس اعجاز نے کہا کہ اگر انتظامی ادارے تعاون نہیں کر رہے تھے تو عدالت کو بتاتے۔ جسٹس جمال نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن حالات سے 10 سال مطمئن نہ ہو تو کیا عدالت الیکشن کرانے کا کہہ سکتی ہے؟۔ سجیل سواتی نے کہا کہ الیکشن کمیشن حقیقت پسندانہ فیصلہ کرے گا۔چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمیشن راستہ نہیں ڈھونڈ سکتا تو ہم ڈھونڈیں گے، 1988ء میں بھی عدالت کے حکم پر الیکشن تاخیر سے ہوئے تھے، 2008ء میں حالات ایسے تھے کہ کسی نے انتخابات التواء پر اعتراض نہیں کیا،اللہ کرے 2008ء والا واقعہ دوبارہ نہ ہو، آرٹیکل 218 تین آرٹیکل 224 سے بالاتر کیسے ہوسکتا ہے، شفاف انتحابات نہیں ہوں گے تو کیا ہو گا؟۔ الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ الیکشن شفاف نہ ہوں تو جمہوریت نہیں چلے گی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سازگار ماحول کا کیا مطلب ہے کہ کوئی کسی پر انگلی نہ اٹھائے، چھوٹی موٹی لڑائی جھگڑے تو ہر ملک میں ہوتے ہیں، اصل معاملہ یہ ہے کہ اسلحہ کا استعمال نہ ہو، اگر معمولی جھگڑا بھی نہیں چاہتے تو ایسا نظام بنائیں لوگ گھر سے ہی ووٹ کاسٹ کریں۔جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ سمندر پار پاکستانی ووٹ کا حق مانگتے ہیں سپریم کورٹ کا حکم بھی موجود ہے، الیکشن کمیشن نے ابھی تک سمندر پار پاکستانیوں کی ووٹنگ کیلئے کچھ نہیں کیا، حکومت سے پوچھتے ہیں کہ چھ ماہ کا عرصہ کم ہوسکتا ہے یا نہیں۔ایڈووکیٹ جنرل کے نے اپنے دلائل میں کہا کہ گورنر خیبرپختونخوا نے ابھی تک انتخابات کی تاریخ نہیں دی۔ جسٹس منیب نے پوچھا نگراں حکومت نے گورنر کو تاریخ دینے کا کیوں نہیں کہا؟۔ ڈی جی لاء الیکشن کمیشن نے بتایا کہ گورنر کے پی نے 8 اکتوبر کی تاریخ دی ہے، گورنر کا خط کل موصول ہوا ہے، ہدایات کیلئے وقت دیں۔جسٹس منیب نے پوچھا کہ گورنر کے پی نے 8 اکتوبر کی تاریخ کس بنیاد پر دی ہے؟، اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد 90 روز 30 اپریل کو پورے ہورہے ہیں،90 دن سے کم سے کم آگے کی تاریخ 28 مئی کیسے دی گئی؟۔ وکیل نے کہا کہ کل گورنر کے پی کے سے ہدایات لے کر آگاہ کروں گا۔ جسٹس منیب نے ریمارکس دیئے کہ پہلے ہی حکمنامے میں کہا تھا کہ گورنر تاریخ نہ دے کر آئینی خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔سپریم کورٹ نے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات کے التواء سے متعلق کیس کی سماعت کل (جمعرات) ساڑھے 11 بجے تک ملتوی کردی