یورپی یونین نے پرتشدد مظاہرین کو روکنے کی پاداش میں ایران پر نئی پابندیاں لگا دیں

Share

ایران میں 22 سالہ مہسا امینی کی پولیس کی حراست میں ہلاکت کے بعد پرتشدد مظاہروں نے زور پکڑا تو ایران کی سیکورٹی فورسز نے فساد پر قابو پانے کے لئے شرپسندوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن جاری ہے جس پر پہلے امریکہ نے شور مچایا اب یورپی یونین نے ایرانی پولیس اور وزیر مواصلات سمیت چار ایرانی اداروں اور 11شخصیات پر ویزا اور اثاثے منجمد کرنے کی پابندیاں لگا دیں ہیں

غیر ملکی میڈیا کے مطابق یورپی یونین کی پابندیوں میں ایران کی موریلیٹی پولیس اور اس کا چیف، وزیر مواصلات، ایرانی پاسداران انقلاب کی پیراملٹری فورس بھی شامل ہیں۔

یورپی یونین کی پابندیوں پر ایرانی وزیر خارجہ امیر حسین عبداللہیان کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کا عمل وسیع پیمانے پر پھیلائی گئی معلومات کا نتیجہ ہے، فسادات اور توڑپھوڑ کہیں بھی برداشت نہیں کیے جاتے، ایران بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Skip to toolbar