ایرانی افزودہ یورینیئم اب بھی اصفہان کے جوہری مرکز میں موجود ہو سکتی ہے: سربراہ آئی اے ای اے

Share

اقوامِ متحدہ کی ایٹمی ایجنسی آئی اے ای اے کے سربراہ رافائل گروسی کا کہنا ہے کہ ایران کی بیشتر افزودہ یورینیئم اب بھی اصفہان کے جوہری مرکز میں موجود ہونے کا امکان ہے۔مغربی خبر رساں ایجنسی کو انٹرویو میں ان کا کہنا ہے کہ جون 2025ء کے امریکی حملوں کے وقت موجود یورینیئم غالباً اب بھی وہیں ہے، جبکہ نطنز اور فردو کے معائنے کی بھی ضرورت ہے۔رافائل گروسّی نے بتایا ہے کہ ایران کے پاس 440.9 کلو گرام 60 فیصد افزودہ یورینیئم موجود ہے، جس میں سے تقریباً 200 کلو گرام اصفہان کی سرنگوں میں ہو سکتی ہے۔ رافائل گروسی نے یہ بھی کہا ہے کہ آئی اے ای اے نے روس سمیت دیگر ممالک سے ایران کی اعلیٰ افزودہ یورینیئم کو ملک سے باہر منتقل کرنے کے امکان پر بھی بات چیت کی ہے، تاہم یہ ایک پیچیدہ عمل ہو گا

Check Also

ڈونلڈ ٹرمپ نے مبینہ شوٹر کی تصویر شیئر کردی

Share امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مبینہ شوٹر کی تصویر شیئر کر دی۔ ڈونلڈ ٹرمپ …