مصنوعی ذہانت ہر ملازمت کی جگہ نہیں لے سکتی: اینتھروپک کی پیشگوئی

Share

مصنوعی ذہانت معیشت کے مختلف شعبوں میں پیداوار اور کام کی رفتار بڑھا رہی ہے تاہم اس کے تیزی سے بڑھتے استعمال سے ملازمتوں کے متاثر ہونے کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ماہرین کی رائے ہے کہ مصنوعی ذہانت کا اثر تمام شعبوں پر یکساں نہیں ہوگا، بعض ملازمتوں میں اے آئی کے سبب کارکردگی بڑھے گی جبکہ کچھ پیشوں میں کام کی نوعیت اور ذمے داریاں نمایاں طور پر تبدیل ہو سکتی ہیں۔تحقیق کے مطابق اگر مصنوعی ذہانت کا انتہائی تیزی سے پھیلاؤ ہوا تو 2030ء تک دنیا کی مجموعی پیداوار مصنوعی ذہانت کے بغیر متوقع سطح کے مقابلے میں 32 فیصد زیادہ ہوسکتی ہے تاہم تقریباً ہر 5 میں سے 1 علمی شعبے سے وابستہ کارکن بے روزگار ہو سکتا ہے۔تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی وجہ سے مجموعی طور پر اوسط اجرت میں 9.7 فیصد اضافہ ممکن ہے لیکن انتہائی صورتحال میں علمی نوعیت کی ملازمتوں سے وابستہ افراد کی اجرت 11.5 فیصد تک کم ہوسکتی ہے کیونکہ مصنوعی ذہانت ان کے روایتی کاموں کا بڑا حصہ انجام دینے لگے گی۔علمی ملازمتوں میں ایسے پیشے شامل ہیں جن میں سوچ، تجزیہ، مسئلہ حل کرنا، فیصلہ سازی، رابطہ کاری اور معلومات کی تخلیق بنیادی حیثیت رکھتے ہیں جیسے پروگرامنگ، تجزیہ، تحقیق اور صارفین کی معاونت۔مصنوعی ذہانت سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شعبوں میں کمپیوٹر پروگرامنگ سرفہرست ہے جہاں 74.5 فیصد کاموں پر مصنوعی ذہانت کے اثر انداز ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اس کے بعد صارفین کی معاونت کے نمائندے 70.1 فیصد، ڈیٹا اندراج کرنے والے کارکن 67.1 فیصد اور طبی ریکارڈ کے ماہرین 66.7 فیصد کے ساتھ نمایاں ہیں۔مارکیٹنگ کے ماہرین کے 64.8 فیصد، فروخت کے نمائندوں کے 62.8 فیصد اور مالی و سرمایہ کاری کے تجزیہ کاروں کے 57.2 فیصد کام بھی مصنوعی ذہانت سے نمایاں طور پر متاثر ہوسکتے ہیں

Check Also

فرانس میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی عائد

Share فرانس میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال …