میں نے ذاتی طور پر عمران خان کو قتل کرنے کی کوشش کی، گرفتار ملزم کا اعتراف

پولیس حراست میں موجود حملہ آور نے بتایا کہ اس نے عمران خان پر اس لیے حملہ کیا کیونکہ وہ قوم کو گمراہ کر رہا تھا۔

ملزم کا کہنا تھا کہ یہ لوگوں کو گمراہ کر رہا تھا جو مجھے اچھا نہیں لگ رہا تھا، یہ اذان کے وقت اسپیکر بجا رہا تھا جو مجھے اچھا نہیں لگا، میں نے صبح سے ہی فیصلہ کرلیا تھا کہ اس کو مارنا ہے۔ 

 اس کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس نے اپنی فائرنگ کے دوران صرف اور صرف عمران خان کو مارنے کی کوشش کی تھی۔

حملہ آور سے پوچھا گیا کہ تمھارے پیچھے کتنے لوگ ہیں اس پر اس نے جواب دیا کہ وہ اکیلا ہے اور اس ساتھ کوئی نہیں ہے۔ 

اس نے یہ بھی بتایا کہ وہ بائیک پر آیا تھا اور اس نے اپنی بائیک اپنے ماموں کی دکان پر کھڑی کردی

واضح رہے کہ گوجرانوالہ میں لانگ مارچ کے دوران چیئرمین پی ٹی آئی کے کنٹینر پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے جس کے نتیجے میں عمران خان سمیت تحریک انصاف کے 4 رہنما زخمی ہوگئے۔زخمی ہونے والوں میں سینیٹر فیصل جاوید بھی شامل ہیں، اس کے علاوہ حامد ناصر چٹھہ کے صاحبزادے احمد چٹھہ اور چوہدری محمد یوسف بھی زخمی ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ احمد چھٹہ کی حالت تشویش ناک ہے۔اس حملے کے بعد پنجاب پولیس کی سکیورٹی اور عمران خان کی ذاتی سکیورٹی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔اب یہ اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ پنجاب پولیس کی جانب سے پی ٹی آئی لانگ مارچ انتظامیہ کو خطرے سے آگاہ کردیا گیا تھا، پولیس نے پی ٹی آئی رہنماؤں کو تحریری طور پر تھریٹ سے متعلق آگاہ کیا۔اطلاعات کے مطابق عمران خان کے چیف سکیورٹی آفیسر کو تحریری طور پر بھی خطرے سے آگاہ کیا گیا تھا، تھریٹ الرٹ یکم نومبر کو جاری کیا گیا تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *